تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 15

اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴿ۙ۱۵﴾
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں
En
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے بھی استدلال کیا ہے، جن کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اورپر تلے بنائے ہیں۔ یعنی ہر آسمان کو دوسرے آسمان کے اوپر پیدا کیا۔
﴿ وَّجَعَلَ الْ٘قَ٘مَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا اور چاند کو ان میں نور بنایا۔ یعنی زمین والوں کے لیے ﴿ وَّجَعَلَ الشَّ٘مْسَ سِرَاجًا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اس میں ان اشیاء کی تخلیق کے بڑے ہونے، نیز سورج اور چاند کے فوائد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بے پایاں احسان پر دلالت کرتی ہے۔ پس وہ عظیم اور رحیم ہستی مستحق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے، اس سے ڈرا جائے اور امید رکھی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

واستدلَّ أيضاً بخلقِ السماواتِ التي هي أكبر من خلق الناس، فقال: {ألم تَرَوْا كيف خَلَقَ الله سبع سمواتٍ طباقاً}؛ أي: كلّ سماءٍ فوق الأخرى، {وجعل القمر فيهنَّ نوراً}: لأهل الأرض، {وجعل الشمسَ سِراجاً}: ففيه تنبيهٌ على عظم خلق هذه الأشياء، وكثرة المنافع في الشمس والقمر، الدالَّة على رحمة الله وسعة إحسانه؛ فالعظيم الرحيم يستحقُّ أن يعظَّم ويُحبَّ - ويُخاف ويُرجى.