(آیت 15تا20) {اَلَمْتَرَوْاكَيْفَخَلَقَاللّٰهُ …:} نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گردو پیش ان کی ضرورتوں کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا کیا تم نے غور نہیں کیاکہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کر دیا اور تمھاری سہولت کے لیے اس میں گھاٹیاں اور کشادہ رستے بنا دیے۔ یہ تمام انتظام اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمھیں پہلے زمین سے پیدا کیا ہے اسی طرح زمین میں دفن کرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس کے علاوہ تمھاری ضرورت کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں، تمھارے معبودانِ باطلہ نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا، تم نے دونوں کو برابر کیسے سمجھ لیا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمانوں [8] کو اوپر تلے پیدا کیا
[8] اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۃ ملک کا حاشیہ نمبر 6۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے بھی استدلال کیا ہے، جن کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمْتَرَوْاكَیْفَخَلَقَاللّٰهُسَبْعَسَمٰوٰتٍطِبَاقًا﴾”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اورپر تلے بنائے ہیں۔“ یعنی ہر آسمان کو دوسرے آسمان کے اوپر پیدا کیا۔
﴿ وَّجَعَلَالْ٘قَ٘مَرَفِیْهِنَّنُوْرًا﴾” اور چاند کو ان میں نور بنایا۔“ یعنی زمین والوں کے لیے ﴿ وَّجَعَلَالشَّ٘مْسَسِرَاجًا﴾”اور سورج کو چراغ بنایا۔“ اس میں ان اشیاء کی تخلیق کے بڑے ہونے، نیز سورج اور چاند کے فوائد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے بے پایاں احسان پر دلالت کرتی ہے۔ پس وہ عظیم اور رحیم ہستی مستحق ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے، اس سے محبت کی جائے، اس سے ڈرا جائے اور امید رکھی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
واستدلَّ أيضاً بخلقِ السماواتِ التي هي أكبر من خلق الناس، فقال: {ألم تَرَوْا كيف خَلَقَ الله سبع سمواتٍ طباقاً}؛ أي: كلّ سماءٍ فوق الأخرى، {وجعل القمر فيهنَّ نوراً}: لأهل الأرض، {وجعل الشمسَ سِراجاً}: ففيه تنبيهٌ على عظم خلق هذه الأشياء، وكثرة المنافع في الشمس والقمر، الدالَّة على رحمة الله وسعة إحسانه؛ فالعظيم الرحيم يستحقُّ أن يعظَّم ويُحبَّ - ويُخاف ويُرجى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔