تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 42

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾
پس انھیں چھوڑ دے کہ وہ بے ہودہ باتوں میں لگے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا پہنچیں جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔ En
تو (اے پیغمبر) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو
En
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى یُلٰ٘قُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذا تقرَّر البعث والجزاء، واستمرُّوا على تكذيبهم وعدم انقيادهم لآيات الله؛ {فذَرْهم يخوضوا ويلعبوا}؛ أي: يخوضوا بالأقوال الباطلة والعقائد الفاسدة، ويلعبوا بدينهم، ويأكلوا ويشربوا ويتمتَّعوا، {حتَّى يلاقوا يومَهُمُ الذي يوعدونَ}: فإنَّ الله قد أعدَّ لهم فيه من النَّكال والوبال ما هو عاقبةُ خوضهم ولعبهم.