ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 42

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾
پس انھیں چھوڑ دے کہ وہ بے ہودہ باتوں میں لگے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا پہنچیں جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔ En
تو (اے پیغمبر) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو
En
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 42) {فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَ يَلْعَبُوْا …:} مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ اس کے بعد { يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ } اس سے بدل ہے۔ دنیا کے کھیل کود کی مہلت موت تک ہے اور موت قیامت کا دروازہ ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بددل نہ کر دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ لہٰذا انہیں اپنی بے ہودہ باتوں اور کھیل کو پڑا رہنے دیجئے تا آنکہ وہ دن دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دنیا میں ڈھیل ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اے نبی! انہیں ان کے جھٹلانے، کفر کرنے، سرکشی میں بڑھنے ہی میں چھوڑ دو، جس کا وبال ان پر اس دن آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہو چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا اور یہ میدان محشر کی طرف جہاں انہیں حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اس طرح لپکتے ہوئے جائیں گے جس طرح دنیا میں کسی بت یا علم، تھان اور چلے کو چھونے اور ڈنڈوت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے جاتے ہیں، مارے شرم و ندامت کے نگاہیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی اور چہروں پر پھٹکار برس رہی ہو گی، یہ ہے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے سرکشی کرنے کا نتیجہ! اور یہ ہے وہ دن جس کے ہونے کو آج محال جانتے ہیں اور ہنسی مذاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کی اور شریعت اور کلام الٰہی کی حقارت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیامت کیوں قائم نہیں ہوتی؟ ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا؟ ‘۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ المعارج کی تفسیر ختم ہوئی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حیات بعدالممات اور جزا و سزا متحقق ہو گئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے ﴿ فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں ﴿ حَتّٰى یُلٰ٘قُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کر رکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذا تقرَّر البعث والجزاء، واستمرُّوا على تكذيبهم وعدم انقيادهم لآيات الله؛ {فذَرْهم يخوضوا ويلعبوا}؛ أي: يخوضوا بالأقوال الباطلة والعقائد الفاسدة، ويلعبوا بدينهم، ويأكلوا ويشربوا ويتمتَّعوا، {حتَّى يلاقوا يومَهُمُ الذي يوعدونَ}: فإنَّ الله قد أعدَّ لهم فيه من النَّكال والوبال ما هو عاقبةُ خوضهم ولعبهم.