تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 26

وَ الَّذِیۡنَ یُصَدِّقُوۡنَ بِیَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۪ۙ۲۶﴾
اور وہ جو جزا کے دن کو سچا مانتے ہیں۔ En
اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں
En
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ یعنی جزا و سزا اور قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے جو خبر دی ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور انھیں اس پر یقین ہے، پس وہ آخرت کے لیے تیاری کرتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح کوشش کرتے ہیں، قیامت کے دن کی تصدیق سے رسولوں اور ان کتابوں کی جن کو لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں، تصدیق لازم آتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يصدِّقون بيوم الدين}؛ أي: يؤمنون بما أخبر به وأخبرت به الرسلُ من الجزاء والبعث، ويتيقَّنون ذلك، فيستعدُّون للآخرة، ويَسْعَوْن لها سعيها. والتصديق بيوم الدين يلزم منه التصديق بالرسل وبما جاؤوا به من الكتب.