تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ انسان کا وصف ہے جیسا کہ وہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت بیان کی ہے کہ وہ انتہائی بے صبرا ہے، پھر ”بے صبرے“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِذَامَسَّهُالشَّرُّجَزُوْعًا﴾ پس اگر کبھی اس پر فقر یا کسی مرض کا حملہ ہوتا ہے یا مال و متاع، گھر والوں اور اولاد میں سے کوئی محبوب چلا جاتا ہے تو وہ انتہائی بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے، اس بارے میں صبر کو استعمال نہیں کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی قضا پر ہی راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَّاِذَامَسَّهُالْخَیْرُمَنُوْعًا﴾”اورجب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔ پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بے صبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الوصف للإنسان من حيث هو؛ ووَصَفَ طبيعتَه [الأصليةَ] أنَّه هلوعٌ، وفسَّر الهَلوعَ بقوله: {إذا مسَّه الشَّرُّ جزوعاً}: فيجزع إن أصابه فقرٌ أو مرضٌ أو ذهابُ محبوبٍ له من مال أو أهل أو ولدٍ، ولا يستعمل في ذلك الصبر والرِّضا بما قضى الله، {وإذا مسَّه الخير منوعاً}: فلا يُنْفِقُ مما آتاه الله، ولا يشكر الله على نعمه وبرِّه فيجزع في الضَّراء ويمنع في السَّراء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔