تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 94

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس کے رہنے والوں کو تنگی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ گڑ گڑائیں۔ En
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
En
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہو، تاکہ وه گڑ گڑائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَ٘رْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّ٘رَّآءِ سختی اور تکلیف میں یعنی محتاجی، مرض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہو تو شاید ان کے نفس جھک جائیں۔ ﴿ یَضَّ٘رَّعُوْنَ عاجزی اور زاری کریں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑگڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وما أرسلنا في قرية من نبيٍّ}: يدعوهم إلى عبادة الله، وينهاهم عن ما هم فيه من الشرِّ، فلم ينقادوا له؛ إلاَّ ابتلاهم الله {بالبأساءِ والضرَّاءِ}؛ أي: بالفقر والمرض وأنواع البلايا، {لعلهم}: إذا أصابتهم؛ خضعتْ نفوسُهم؛ فتضرعوا إلى الله، واستكانوا للحق.