تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاۤاَرْسَلْنَافِیْقَ٘رْیَةٍمِّنْنَّبِیٍّ ﴾”اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی“ جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿ اِلَّاۤاَخَذْنَاۤاَهْلَهَا ﴾”مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿ بِالْبَاْسَآءِوَالضَّ٘رَّآءِ ﴾”سختی اور تکلیف میں “ یعنی محتاجی، مرض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ ﴾”شاید کہ وہ“ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہو تو شاید ان کے نفس جھک جائیں۔ ﴿ یَضَّ٘رَّعُوْنَ ﴾”عاجزی اور زاری کریں۔“ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑگڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وما أرسلنا في قرية من نبيٍّ}: يدعوهم إلى عبادة الله، وينهاهم عن ما هم فيه من الشرِّ، فلم ينقادوا له؛ إلاَّ ابتلاهم الله {بالبأساءِ والضرَّاءِ}؛ أي: بالفقر والمرض وأنواع البلايا، {لعلهم}: إذا أصابتهم؛ خضعتْ نفوسُهم؛ فتضرعوا إلى الله، واستكانوا للحق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔