پھر وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی، تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔
En
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی علیہ السلام ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ یٰقَوْمِلَقَدْاَبْلَغْتُكُمْرِسٰؔلٰ٘تِرَبِّیْ﴾”اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔“ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحْتُلَكُمْ ﴾”اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی“ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَ٘ـیْفَاٰسٰىعَلٰىقَوْمٍكٰفِرِیْنَ﴾”تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں۔“ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔
اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحين هلكوا تولَّى عنهم نبيُّهم عليه الصلاة والسلام، {وقال} معاتباً وموبِّخاً ومخاطباً لهم بعد موتهم: {يا قوم لقد أبلغتُكم رسالاتِ ربِّي}؛ أي: أوصلتها إليكم وبيَّنتها حتَّى بلغت منكم أقصى ما يمكن أن تصل إليه وخالطت أفئدتكم، {ونصحتُ لكم}: فلم تقَبلوا نُصحي ولا انقدتم لإرشادي، بل فسقتُم وطغيتم؛ {فكيف آسى على قوم كافرينَ}؛ أي: فكيف أحزن على قوم لا خيرَ فيهم، أتاهم الخيرُ فردُّوه ولم يقبلوه، ولا يَليقُ بهم إلا الشرُّ؛ فهؤلاء غير حقيقين أن يُحْزَنَ عليهم، بل يُفْرَحُ بإهلاكهم ومَحْقِهم؛ فعياذاً بك اللهمَّ من الخزي والفضيحة! وأيُّ شقاء وعقوبة أبلغ من أن يصلوا إلى حالة يتبرأ منهم أنصح الخلق لهم؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔