تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاَخَذَتْهُمُالرَّجْفَةُ ﴾”پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔“﴿ فَاَصْبَحُوْافِیْدَارِهِمْجٰؔثِمِیْنَ﴾”اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔“ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔