تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 90

وَ قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَیۡبًا اِنَّکُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا بے شک اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو بے شک تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو۔ En
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
En
اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راه پر چلو گے تو بےشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّـكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الملأُ الذين كفروا من قومه}: محذِّرين عن اتِّباع شعيب: {لئن اتَّبعتم شعيباً إنَّكم إذاً لخاسرونَ}: هذا ما سوَّلت لهم أنفسهم؛ أن الخسارة والشقاء في اتباع الرشد والهدى، ولم يدروا أن الخسارة كلَّ الخسارة في لزوم ما هم عليه من الضلال والإضلال، وقد علموا ذلك حين وقع بهم النَّكال.