تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 66

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفرکیا، کہا بے شک ہم یقینا تجھے بہت بڑی بے وقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بے شک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ En
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
En
ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں۔ اور ہم بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر انھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔
ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی علیہ السلام کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہود علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔
اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يستجيبوا ولا انقادوا، فقال {الملأُ الذين كفروا من قومِهِ}: رادِّين لدعوته قادحين في رأيه: {إنا لنراك في سَفاهةٍ وإنا لنظنُّك من الكاذبين}؛ أي: ما نراك إلاَّ سفيهاً غير رشيد، ويغلب على ظنِّنا أنك من جملة الكاذبين. وقد انقلبت عليهم الحقيقةُ واستحكم عماهم حيث رموا نبيَّهم عليه السلام بما هم متَّصفون به، وهو أبعدُ الناس عنه؛ فإنهم السفهاء حقًّا الكاذبون، وأيُّ سفهٍ أعظم ممَّن قابل أحقَّ الحقِّ بالردِّ والإنكار، وتكبَّر عن الانقياد للمرشدين والنصحاء، وانقاد قلبُهُ وقالبه لكلِّ شيطان مريدٍ، ووضع العبادة في غير موضعها، فعَبَدَ من لا يغني عنه شيئاً من الأشجار والأحجار؟! وأيُّ كذب أبلغ من كذب من نسب هذه الأمور إلى الله تعالى؟!