تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 65

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے؟ En
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
En
اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم ڈرتے نہیں۔ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و}: أرسلنا {إلى عادٍ}: ـ الأولى، الذين كانوا في أرض اليمن ـ {أخاهم}: في النسب {هوداً}: عليه السلام، يدعوهم إلى التوحيد، وينهاهم عن الشرك، والطغيان في الأرض، فقال لهم: {يا قوم اعبُدوا اللهَ ما لكم من إلهٍ غيره أفلا تتقون}: سَخَطَهُ وعذابَهُ إن أقمتم على ما أنتم عليه.