تو کہہ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لیے) خالص ہوں گی، اسی طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔
En
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اسباب زینت کو، جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اشیا اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لئے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے لئے بھی ہیں۔ ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیرکرتا ہے جو تکلف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے ﴿قُ٘لْمَنْحَرَّمَزِیْنَةَاللّٰهِالَّتِیْۤاَخْرَجَلِعِبَادِهٖ ﴾”کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟“ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے طیبات کو اس لیے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ قُ٘لْهِیَلِلَّذِیْنَاٰمَنُوْافِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَاخَالِصَةًیَّوْمَالْقِیٰمَةِ ﴾ کہہ دیجیے! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں، خالص انھی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن“ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لیے خالص ہیں نہ ان کے لیے مباح بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
﴿كَذٰلِكَنُفَصِّلُالْاٰیٰتِ ﴾”ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ ﴿ لِقَوْمٍیَّعْلَمُوْنَ ﴾”ان کے لیے جو جانتے ہیں “ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى منكراً على من تعنَّت وحرَّم ما أحلَّ الله من الطيبات: {قل مَنْ حَرَّمَ زينةَ الله التي أخرج لعباده}: من أنواع اللباس على اختلاف أصنافه والطيبات من الرزق من مأكل ومشرب بجميع أنواعه؛ أي: من هذا الذي يقدم على تحريم ما أنعم الله بها على العباد؟ ومن ذا الذي يضيِّق عليهم ما وسعه الله؟ وهذا التوسيع من الله لعباده بالطيبات جعله لهم ليستعينوا به على عبادته فلم يُبِحْه إلا لعباده المؤمنين، ولهذا قال: {قل هي للذين آمنوا في الحياة الدُّنيا خالصةً يوم القيامة}؛ أي: لا تبعة عليهم فيها. ومفهوم الآية أن من لم يؤمن بالله بل استعان بها على معاصيه؛ فإنها غير خالصة له ولا مباحة، بل يعاقب عليها وعلى التنعُّم بها، ويسأل عن النعيم يوم القيامة. {كذلك نفصِّل الآيات}؛ أي: نوضحها ونبيِّنها، {لقوم يعلمون}: لأنهم الذين ينتفعون بما فصَّله الله من الآيات، ويعلمون أنها من عند الله، فيعقلونها ويفهمونها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔