تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[32] اس لیے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا لاتے ہیں وہی نمک حلال ہوتے ہیں اور وہی مزید نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کریں اس کی نعمتوں کے حقدار نہیں ہو سکتے لیکن چونکہ یہ دنیا دار الامتحان ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نمک حراموں کو بھی رزق دیئے جاتا ہے بلکہ بسا اوقات زیادہ بھی دیتا ہے تاہم آخرت میں اللہ کی نعمتیں صرف اللہ کے فرمانبرداروں ہی کے لیے مخصوص ہوں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ مشرک ننگے ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کرتے تھے۔ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جاتے تھے۔ پس یہ آیتیں اتریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى منكراً على من تعنَّت وحرَّم ما أحلَّ الله من الطيبات: {قل مَنْ حَرَّمَ زينةَ الله التي أخرج لعباده}: من أنواع اللباس على اختلاف أصنافه والطيبات من الرزق من مأكل ومشرب بجميع أنواعه؛ أي: من هذا الذي يقدم على تحريم ما أنعم الله بها على العباد؟ ومن ذا الذي يضيِّق عليهم ما وسعه الله؟ وهذا التوسيع من الله لعباده بالطيبات جعله لهم ليستعينوا به على عبادته فلم يُبِحْه إلا لعباده المؤمنين، ولهذا قال: {قل هي للذين آمنوا في الحياة الدُّنيا خالصةً يوم القيامة}؛ أي: لا تبعة عليهم فيها. ومفهوم الآية أن من لم يؤمن بالله بل استعان بها على معاصيه؛ فإنها غير خالصة له ولا مباحة، بل يعاقب عليها وعلى التنعُّم بها، ويسأل عن النعيم يوم القيامة. {كذلك نفصِّل الآيات}؛ أي: نوضحها ونبيِّنها، {لقوم يعلمون}: لأنهم الذين ينتفعون بما فصَّله الله من الآيات، ويعلمون أنها من عند الله، فيعقلونها ويفهمونها.