تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 194

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾
بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔ En
(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں
En
واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وه بھی تم ہی جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں۔پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من نوع التحدي للمشركين العابدين للأوثان؛ يقول تعالى: {إنَّ الذين تَدْعون من دونِ الله عبادٌ أمثالكم}؛ أي: لا فرق بينكم وبينهم؛ فكلُّكم عبيدٌ لله مملوكون؛ فإن كنتم كما تزعمون صادقين في أنها تستحقُّ من العبادة شيئاً؛ {فادْعوهم فليستجيبوا لكم}: فإن استجابوا لكم وحصَّلوا مطلوبكم، وإلاَّ؛ تبيَّن أنكم كاذبون في هذه الدعوى مفترون على الله أعظم الفرية.