تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 193

وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَتَّبِعُوۡکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡہُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴿۱۹۳﴾
اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمھارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔ En
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
En
اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اور اگر تم ان کو پکارو۔ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الْهُدٰؔى لَا یَتَّبِعُوْؔكُمْ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإن تدعوا أيُّها المشركون، هذه الأصنام التي عبدتم من دون الله {إلى الهدى لا يتَّبعوكم سواءٌ عليكم أدعوتُموهم أم أنتم صامتونَ}: فصار الإنسانُ أحسنَ حالةً منها؛ لأنَّها لا تسمع ولا تبصِرُ ولا تَهْدي ولا تُهْدَى، وكل هذا إذا تصوَّره اللبيب العاقل تصوراً مجرداً؛ جزم ببطلان إلهيتها وسفاهة مَنْ عبدها.