تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 136

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾
تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس انھیں سمندر میں غرق کر دیا، اس وجہ سے کہ بے شک انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔ En
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
En
پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ (الشعراء: 26؍53) پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ۰۰وَاِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىِٕظُوْنَۙ۰۰وَاِنَّا لَ٘جَمِیْعٌ حٰؔذِرُوْنَؕ۰۰فَاَخْرَجْنٰهُمْ۠ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍۙ۰۰وَّكُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ۰۰فَاَتْبَعُوْهُمْ۠ مُّشْرِقِیْنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الْ٘جَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰؔبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَؔكُوْنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ۰۰فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُ٘لُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ۰۰وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ۰۰وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰؔى وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ۰۰ثُمَّ اَغْ٘رَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ۰۰ (الشعراء: 26؍54۔66) یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغْ٘رَقْنٰهُمْ۠ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْ٘نَ پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانتقمنا منهم}؛ أي: حين جاء الوقت الموقَّت لهلاكهم؛ أمر الله موسى أن يسري ببني إسرائيل ليلاً، وأخبره أن فرعون سيتبعُهم هو وجنوده. {فأرسلَ فرعونُ في المدائن حاشرين} يجمعونَ الناس لِيَتْبَعوا بني إسرائيل، وقالوا لهم: {إنَّ هؤلاء لَشِرْذمةٌ قليلون. وإنَّهم لنا لغائظونَ. وإنَّا لجميعٌ حاذرون. فأخْرَجْناهم من جناتٍ وعيون. وكنوزٍ ومقام كريم. كذلك وأورَثْناها بني إسرائيل. فأتْبعوهم مشرقينَ. فلما تراءى الجمعانِ قال أصحابُ موسى إنا لَمُدْرَكونَ. قال كلاَّ إن معي ربي سيهدين. فأوحَيْنا إلى موسى أنِ اضرِبْ بعصاك البحرَ فانفلق فكان كلُّ فرقٍ كالطودِ العظيم. وأزلفنا ثَمَّ الآخرين. وأنجينا موسى ومن معه أجمعين. ثم أغرقنا الآخرين}. وقال هنا: {فأغرَقْناهم في اليمِّ بأنَّهم كذَّبوا بآياتنا وكانوا عنها غافلين}؛ أي: بسبب تكذيبهم بآيات الله، وإعراضهم عمَّا دلَّت عليه من الحقِّ.