ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 136

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾
تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس انھیں سمندر میں غرق کر دیا، اس وجہ سے کہ بے شک انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔ En
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
En
پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 135 میں تا آیت 137 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

136۔ 1 اتنی بڑی نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لانے کے لئے اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوئے بالآخر انہیں دریا میں غرق کردیا، جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

136۔ آخر ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر [131] میں غرق کر دیا۔ کیونکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلاتے اور ان سے لاپروائی برتتے تھے
[131] آل فرعون کی غرقابی:۔
جب بنی اسرائیل اس سمندر کے کنارے پہنچ گئے تو انہیں فرعون کے تعاقب کی خبر ہو گئی وہ سخت گھبرائے کہ اگر اب ہم ان کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر ہماری خیر نہیں۔ ایسی پریشان کن اور نازک صورتحال میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ پر وحی نازل فرمائی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ عصا سمندر پر مارنے کی دیر تھی کہ اللہ کے حکم سے ادھر کا پانی ادھر ہی تھم گیا اور ادھر کا ادھر تھم گیا جیسے ساکت و جامد پہاڑوں کے بڑے بڑے تودے کھڑے ہوں درمیان میں خشک راستہ بن گیا اس خشک راستے سے بنی اسرائیل جب سمندر کے دوسرے کنارے پر جا پہنچے تو فرعونیوں نے بھی وہاں پہنچ کر اسی خشک راستے پر اپنے گھوڑے ڈال دیئے جب یہ لشکر عین وسط میں پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ مل جائے اس طرح فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اپنے اس انجام بد کو پہنچ گیا جس کی خبر اسے موسیٰؑ کئی بار دے چکے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انجام سرکشی ٭٭
جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔
بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔
پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔
اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِیْنَ (الشعراء: 26؍53) پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ۰۰وَاِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىِٕظُوْنَۙ۰۰وَاِنَّا لَ٘جَمِیْعٌ حٰؔذِرُوْنَؕ۰۰فَاَخْرَجْنٰهُمْ۠ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍۙ۰۰وَّكُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ كَرِیْمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ۰۰فَاَتْبَعُوْهُمْ۠ مُّشْرِقِیْنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الْ٘جَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰؔبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَؔكُوْنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ۰۰فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُ٘لُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ۰۰وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ۰۰وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰؔى وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ۰۰ثُمَّ اَغْ٘رَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ۰۰ (الشعراء: 26؍54۔66) یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغْ٘رَقْنٰهُمْ۠ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْ٘نَ پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانتقمنا منهم}؛ أي: حين جاء الوقت الموقَّت لهلاكهم؛ أمر الله موسى أن يسري ببني إسرائيل ليلاً، وأخبره أن فرعون سيتبعُهم هو وجنوده. {فأرسلَ فرعونُ في المدائن حاشرين} يجمعونَ الناس لِيَتْبَعوا بني إسرائيل، وقالوا لهم: {إنَّ هؤلاء لَشِرْذمةٌ قليلون. وإنَّهم لنا لغائظونَ. وإنَّا لجميعٌ حاذرون. فأخْرَجْناهم من جناتٍ وعيون. وكنوزٍ ومقام كريم. كذلك وأورَثْناها بني إسرائيل. فأتْبعوهم مشرقينَ. فلما تراءى الجمعانِ قال أصحابُ موسى إنا لَمُدْرَكونَ. قال كلاَّ إن معي ربي سيهدين. فأوحَيْنا إلى موسى أنِ اضرِبْ بعصاك البحرَ فانفلق فكان كلُّ فرقٍ كالطودِ العظيم. وأزلفنا ثَمَّ الآخرين. وأنجينا موسى ومن معه أجمعين. ثم أغرقنا الآخرين}. وقال هنا: {فأغرَقْناهم في اليمِّ بأنَّهم كذَّبوا بآياتنا وكانوا عنها غافلين}؛ أي: بسبب تكذيبهم بآيات الله، وإعراضهم عمَّا دلَّت عليه من الحقِّ.