تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔
پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔
اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فانتقمنا منهم}؛ أي: حين جاء الوقت الموقَّت لهلاكهم؛ أمر الله موسى أن يسري ببني إسرائيل ليلاً، وأخبره أن فرعون سيتبعُهم هو وجنوده. {فأرسلَ فرعونُ في المدائن حاشرين} يجمعونَ الناس لِيَتْبَعوا بني إسرائيل، وقالوا لهم: {إنَّ هؤلاء لَشِرْذمةٌ قليلون. وإنَّهم لنا لغائظونَ. وإنَّا لجميعٌ حاذرون. فأخْرَجْناهم من جناتٍ وعيون. وكنوزٍ ومقام كريم. كذلك وأورَثْناها بني إسرائيل. فأتْبعوهم مشرقينَ. فلما تراءى الجمعانِ قال أصحابُ موسى إنا لَمُدْرَكونَ. قال كلاَّ إن معي ربي سيهدين. فأوحَيْنا إلى موسى أنِ اضرِبْ بعصاك البحرَ فانفلق فكان كلُّ فرقٍ كالطودِ العظيم. وأزلفنا ثَمَّ الآخرين. وأنجينا موسى ومن معه أجمعين. ثم أغرقنا الآخرين}. وقال هنا: {فأغرَقْناهم في اليمِّ بأنَّهم كذَّبوا بآياتنا وكانوا عنها غافلين}؛ أي: بسبب تكذيبهم بآيات الله، وإعراضهم عمَّا دلَّت عليه من الحقِّ.