تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 104

وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۴﴾ۙ
اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! بے شک میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔ En
اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
En
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوْسٰؔى موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا مجمل فصَّله بقوله: {وقال موسى}: حين جاء إلى فرعون يدعوه إلى الإيمان: {يا فرعونُ إنِّي رسولٌ من ربِّ العالَمين}؛ أي: إني رسولٌ من مُرسِل عظيم، وهو ربُّ العالَمين، الشامل للعالم العلويِّ والسفليِّ، مربِّي جميع خلقِهِ بأنواع التدابير الإلهيَّة، التي من جملتها أنه لا يترُكُهم سدىً، بل يرسل إليهم الرسل مبشِّرين ومنذرين، وهو الذي لا يقدر أحدٌ أن يتجرَّأ عليه ويدَّعي أنه أرسله ولم يرسله.