پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انھوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ پھر دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
En
پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دﻻئل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا، مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوْابِهَا ﴾”پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں “ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانْ٘ظُ٘رْؔكَیْفَكَانَعَاقِبَةُالْمُفْسِدِیْنَ ﴾”پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا“ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ثم بعثنا من بعد أولئك الرسل موسى الكليم الإمام العظيم والرسول الكريم إلى قوم عتاةٍ جبابرةٍ ـ وهم فرعون وملؤه من أشرافهم وكبرائهم ـ فأراهم من آيات الله العظيمة ما لم يشاهَدْ له نظيرٌ. {فظلموا بها}: بأن لم ينقادوا لحقِّها الذي مَن لم ينقدْ له فهو ظالمٌ، بل استكبروا عنها، {فانظرْ كيفَ كان عاقبةُ المفسدينَ}: كيف أهلَكَهُمُ الله وأتْبَعَهم الذمَّ واللعنة في الدنيا، ويوم القيامة بئس الرِّفْدُ المرفود.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔