تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 38

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو! En
تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں
En
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے۔ یہ قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أقسم تعالى بما يُبْصِرُ الخلقُ من جميع الأشياء وما لا يبصِرونه، فدخل في ذلك كلُّ الخلق، بل دخل في ذلك نفسُه المقدَّسة، على صدق الرسول بما جاء به من هذا القرآن الكريم، وأنَّ الرسول الكريم بلَّغه عن الله تعالى، ونزَّه اللهُ رسولَه عمَّا رماه به أعداؤه من أنَّه شاعرٌ أو ساحرٌ، وأنَّ الذي حملهم على ذلك عدم إيمانهم وتذكُّرهم؛ فلو آمنوا وتذكَّروا ما ينفعهم ويضرُّهم، ومن ذلك أن ينظروا في حال محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - ويرمُقوا أوصافه وأخلاقه ليروا أمراً مثل الشمس يدلُّهم على أنَّه رسول الله حقًّا وأن ما جاء به {تنزيلٌ من ربِّ العالمين}، لا يَليقُ أن يكون قولاً للبشر، بل هو كلامٌ دالٌّ على عظمة من تكلَّم به وجلالة أوصافه وكمال تربيته للخلق وعلوِّه فوق عباده. وأيضاً؛ فإنَّ هذا ظن منهم بما لا يليق بالله وحكمته.