تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 5

فَسَتُبۡصِرُ وَ یُبۡصِرُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
پس جلد ہی تو دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔ En
سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے
En
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند ترین مقام پر فائز فرمایا اور آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ آپ مجنون اور دیوانے ہیں تو فرمایا: ﴿ فَسَتُبْصِرُ وَیُبْصِرُوْنَۙ ۰۰ بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔ اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے سب سے زیادہ کامل ہیں، نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ آپ کے دشمن، لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے زیادہ شر پسند ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کے بندوں کو فتنے میں ڈالا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹکا دیا، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم کافی ہے، وہی محاسبہ کرنے والا اور جزا دینے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلمَّا أنزله الله في أعلى المنازل [من جميع الوجوه]، وكان أعداؤه ينسِبون إليه أنَّه مجنونٌ مفتونٌ؛ قال: {فستُبْصِرُ ويُبْصِرونَ. بأيِّكُم المفتونُ}: وقد تبيَّن أنَّه أهدى الناس وأكملهم لنفسه ولغيره، وأنَّ أعداءه أضلُّ الناس وشرُّ الناس للناس ، وأنَّهم هم الذين فتنوا عبادَ الله وأضلُّوهم عن سبيله، وكفى بعلم الله بذلك؛ فإنَّه [هو] المحاسب المجازي.