(آیت 6،5){ فَسَتُبْصِرُوَيُبْصِرُوْنَ …:} آپ کے خلق عظیم کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے مجنون کہنے اور دوسری تکلیف دہ باتوں پر صبر کریں۔ ”جلد ہی “سے مراد وہ مواقع ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف طریقوں سے مدد کی، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار آپ کے جانی دشمن فوج در فوج آپ پر ایمان لا کر آپ کے جاں نثار دوست بن گئے اور جو مخالف رہے وہ بدر و احد اور خندق و فتح مکہ وغیرہ میں مردار ہوئے یا ذلیل و خوار ہوئے اور تمام جزیرۃ عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہو گئی۔ پھر قیامت تک آپ کی امت کے ہاتھوں ہونے والی فتوحات اور اسلام کی سر بلندی سے بھی واضح ہو گیا کہ پاگل کون تھا؟ اس کے علاوہ ”جلد ہی“ سے مراد قیامت کا دن بھی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ محمود پر تشریف فرما ہوں گے، آپ کے ہاتھ میں {”لِوَاءُالْحَمْدِ“} (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور جب آپ حوض پر اپنے امتیوں کو پانی پلا رہے ہوں گے اور آپ کو جھٹلانے والے مجرم جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے، تب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی کہ دیوانہ کون ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی جب حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند ترین مقام پر فائز فرمایا اور آپ کے دشمن آپ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ آپ مجنون اور دیوانے ہیں تو فرمایا: ﴿ فَسَتُبْصِرُوَیُبْصِرُوْنَۙ ۰۰ بِاَىیِّكُمُالْمَفْتُوْنُ﴾”پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے۔“ اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے سب سے زیادہ کامل ہیں، نیز یہ بھی واضح ہو گیا کہ آپ کے دشمن، لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے زیادہ شر پسند ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کے بندوں کو فتنے میں ڈالا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بھٹکا دیا، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا علم کافی ہے، وہی محاسبہ کرنے والا اور جزا دینے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا أنزله الله في أعلى المنازل [من جميع الوجوه]، وكان أعداؤه ينسِبون إليه أنَّه مجنونٌ مفتونٌ؛ قال: {فستُبْصِرُ ويُبْصِرونَ. بأيِّكُم المفتونُ}: وقد تبيَّن أنَّه أهدى الناس وأكملهم لنفسه ولغيره، وأنَّ أعداءه أضلُّ الناس وشرُّ الناس للناس ، وأنَّهم هم الذين فتنوا عبادَ الله وأضلُّوهم عن سبيله، وكفى بعلم الله بذلك؛ فإنَّه [هو] المحاسب المجازي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔