تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 47

اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۴۷﴾
یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جا تے ہیں۔ En
یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں
En
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْ٘تُبُوْنَ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پا چکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرہ ور ہوں گے۔ یہ معاملہ جیسا بھی ہے۔ ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم عندَهم الغيبُ فهم يكتُبون}: ما كان عندهم من الغيوب، وقد وجدوا [فيها] أنَّهم على حقٍّ، وأنَّ لهم الثواب عند الله؛ فهذا أمرٌ ما كان، وإنَّما كانت حالهم حال معاندٍ ظالم.