تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 46

اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔ En
کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
En
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ تَسْـَٔؔلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ان کے آپ سے دور بھاگنے اور آپ کی تصدیق نہ کرنے کا کوئی سبب نہیں جو اس کا موجب ہو کیونکہ آپ تو، ان کے مال میں سے کوئی تاوان لیے بغیر، جو ان پر بوجھ ہو، محض ان کے مصالح کی خاطر ان کو تعلیم دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم تسألهم أجراً فهم من مَغْرَم مُثْقَلون}؛ أي: ليس لنفورهم عنك وعدم تصديقهم لك سببٌ يوجب لهم ذلك ؛ فإنَّك تعلِّمُهم وتدعوهم إلى الله لمحض مصلحتهم من غير أن تطلبهم من أموالهم مغرماً يَثْقُلُ عليهم.