تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَلَمَّارَاَوْهَا ﴾ جب انھوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا۔ ﴿ قَالُوْۤا ﴾ تو انھوں نے حیرت اور بے قراری سے کہا: ﴿ اِنَّالَضَآلُّوْنَ﴾ ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب متحقق ہو گیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے:﴿ بَلْنَحْنُمَحْرُوْمُوْنَ ﴾ ہم اس باغ سے محروم ہیں۔ اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلمَّا رأوْها}: على الوصف الذي ذَكَرَ الله كالصريم، {قالوا}: من الحيرة والانزعاج، {إنَّا لضالُّون}؛ أي: تائهون عنها، لعلَّها غيرها، فلما تحقَّقوها ورجعت إليهم عقولهم؛ قالوا: {بل نحن محرومون}: منها، فعرفوا حينئذٍ أنَّه عقوبةٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔