تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 26

فَلَمَّا رَاَوۡہَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو انھوں نے کہا بلاشبہ ہم یقینا راستہ بھولے ہوئے ہیں۔ En
جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں
En
جب انہوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا رَاَوْهَا جب انھوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا۔ ﴿ قَالُوْۤا تو انھوں نے حیرت اور بے قراری سے کہا: ﴿ اِنَّا لَضَآلُّوْنَ ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب متحقق ہو گیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے:﴿ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ہم اس باغ سے محروم ہیں۔ اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا رأوْها}: على الوصف الذي ذَكَرَ الله كالصريم، {قالوا}: من الحيرة والانزعاج، {إنَّا لضالُّون}؛ أي: تائهون عنها، لعلَّها غيرها، فلما تحقَّقوها ورجعت إليهم عقولهم؛ قالوا: {بل نحن محرومون}: منها، فعرفوا حينئذٍ أنَّه عقوبةٌ.