تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 25

وَّ غَدَوۡا عَلٰی حَرۡدٍ قٰدِرِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اور وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں پھل توڑنے پر) قادر تھے۔ En
اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں
En
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّغَدَوْا انتہائی بری، قساوت اور بے رحمی کی حالت میں انھوں نے صبح کی ﴿ عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انھیں پختہ یقین ہے کہ وہ اس باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وغَدَوْا}: في هذه الحالة الشنيعة والقسوة وعدم الرحمة {على حردٍ قادرينَ}؛ أي: على إمساكٍ ومنعٍ لحقِّ الله جازمين بقدرتهم عليها.