تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَّغَدَوْا ﴾ انتہائی بری، قساوت اور بے رحمی کی حالت میں انھوں نے صبح کی ﴿ عَلٰىحَرْدٍقٰدِرِیْنَ ﴾ یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انھیں پختہ یقین ہے کہ وہ اس باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وغَدَوْا}: في هذه الحالة الشنيعة والقسوة وعدم الرحمة {على حردٍ قادرينَ}؛ أي: على إمساكٍ ومنعٍ لحقِّ الله جازمين بقدرتهم عليها.