تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطلاق (65) — آیت 8

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہَا وَ رُسُلِہٖ فَحَاسَبۡنٰہَا حِسَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّ عَذَّبۡنٰہَا عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔ En
اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا
En
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو! یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن إهلاكه الأمم العاتية والقرونَ المكذِّبة للرُّسل، وأنَّ كثرتهم وقوَّتهم لم تُغْنِ عنهم شيئاً حين جاءهم الحساب الشديد والعذاب الأليم، وأنَّ الله أذاقَهم من العذاب ما هو موجبُ أعمالهم السيَّئة، ومع عذاب الدُّنيا؛ فإنَّ الله أعدَّ لهم في الآخرة عذاباً شديداً، {فاتَّقوا اللهَ يا أولي الألبابِ}؛ أي: يا ذوي العقول التي تفهم عن الله آياته وعبره، وأنَّ الذي أهلك القرون الماضية بتكذيبهم؛ أنَّ مَنْ بعدَهم مثلهم، لا فرق بين الطائفتين.