لازم ہے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔
En
صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا
کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ لِیُنْفِقْذُوْسَعَةٍمِّنْسَعَتِهٖ﴾”وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔“یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْقُدِرَعَلَیْهِرِزْقُهٗ﴾”اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔“ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلْ٘یُنْفِقْمِمَّاۤاٰتٰىهُاللّٰهُ﴾”تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔“﴿ لَایُكَلِّفُاللّٰهُنَفْسًااِلَّامَاۤاٰتٰىهَا﴾”اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔“ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَیَجْعَلُاللّٰهُبَعْدَعُسْرٍیُّسْرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّمَعَالْ٘عُسْرِیُسْرًا۰۰اِنَّمَعَالْ٘عُسْرِیُسْرً﴾” (الانشراح: 94/4، 5) ”بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قدَّر تعالى النفقة بحسب حال الزوج، فقال: {لِيُنفِقْ ذو سَعةٍ من سعتِهِ}؛ أي: لينفق الغنيُّ من غناه؛ فلا ينفق نفقة الفقراء، {ومن قُدِرَ عليه رزقُه}؛ أي: ضيِّق عليه، {فلينفِقْ ممَّا آتاه الله}: من الرزق. {لا يكلِّفُ الله نفساً إلاَّ ما آتاها}: وهذا مناسبٌ للحكمة والرحمة الإلهية؛ حيث جعل كلاًّ بحسبه، وخفَّف عن المعسر، وأنَّه لا يكلِّفه إلاَّ ما آتاه؛ فلا يكلِّف الله نفساً إلا وسعها في باب النفقة وغيرها، {سيجعلُ الله بعد عسرٍ يُسْراً}: وهذه بشارةٌ للمعسرين أنَّ الله تعالى سيزيلُ عنهم الشدَّة ويرفع عنهم المشقَّة؛ فإنَّ مع العسر يسراً، إنَّ مع العسر يسراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔