تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 9

یَوۡمَ یَجۡمَعُکُمۡ لِیَوۡمِ الۡجَمۡعِ ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۹﴾
جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻکر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔
گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَیَعْمَلْ صَالِحًا اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: اذكُروا يومَ الجمع الذي يجمع الله به الأوَّلين والآخرين، ويقفُهم موقفاً هائلا عظيماً، وينبِّئهم بما عملوا؛ فحينئذٍ يظهر الفرق والتغابن بين الخلائق، ويُرفع أقوامٌ إلى علِّيين في الغرف العاليات والمنازل المرتفعات المشتملة على جميع اللَّذَّات والشهوات، ويُخفض أقوامٌ إلى أسفل سافلين محلِّ الهمِّ والغمِّ والحزن والعذاب الشديد، وذلك نتيجة ما قدَّموه لأنفسهم وأسلفوه أيَّام حياتهم، ولهذا قال: {ذلك يومُ التغابنِ}؛ أي: يظهر فيه التغابن والتفاوت بين الخلائق، ويغبن المؤمنون الفاسقين، ويعرِفُ المجرمون أنَّهم على غير شيء، وأنَّهم هم الخاسرون. فكأنَّه قيل: بأيِّ شيءٍ يحصلُ الفلاحُ والشقاء والنعيم والعذاب؟ فذكر [تعالى] أسباب ذلك بقوله: {ومَن يؤمِن بالله}: إيماناً تامًّا شاملاً لجميع ما أمر الله بالإيمان به، {ويعملْ صالحاً}: من الفرائض والنوافل؛ من أداء حقوق الله وحقوق عباده، {يُدْخِلْه جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فيها ما تشتهيه الأنفسُ، وتلذُّ الأعينُ، وتختارهُ الأرواح، وتحنُّ إليه القلوب، ويكون نهاية كلِّ مرغوب. {خالدين فيها أبداً ذلك الفوزُ العظيمُ}.