ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 9

یَوۡمَ یَجۡمَعُکُمۡ لِیَوۡمِ الۡجَمۡعِ ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۹﴾
جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
جس دن وہ تم کو اکھٹا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکھٹا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کردے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
En
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻکر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ {يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ:} یہ{ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ } کا ظرف ہے، قیامت کے دن کو{ يَوْمُ الْجَمْعِ } اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن تمام پہلے اور پچھلے ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ (دیکھیے ہود: ۱۰۳۔ صافات: 50،49۔ شوریٰ: ۷۔ مرسلات: ۳۸) {يَوْمُ الْجَمْعِ} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن انسان کے جسم کی ہر ہڈی اور ہر ذرّہ جو منتشر ہوچکا ہوگا جمع کر دیا جائے گا، جیساکہ فرمایا: «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ» [القیامۃ: ۳] کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔
➋ {ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ: غَبَنَ (ن) فُلَانًا فِي الْبَيْعِ} بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرلینا۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے، انھوں نے { ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ } کے متعلق فرمایا: [هُوَ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَذٰلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَغْبُنُوْنَ أَهْلَ النَّارِ] یعنی یوم التغابن قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام اس لیے ہے کہ اس دن جنتی جہنمیوں کو نقصان میں رکھ کر خود فائدہ حاصل کریں گے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس نفع و نقصان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے آگے بیان فرما دی ہے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کو کیا حاصل ہو گا اور کفر و تکذیب والوں کے حصے میں کیا آئے گا۔
➌ {وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا …:} یہ اس دن کی ہار جیت میں سے جیت والوں کے حصے کا بیان ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ 9۔ 2 یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ وہ اجتماع کے دن تم سب کو اکٹھا کرے گا اور یہی ایک دوسرے کے مقابلہ میں ہار جیت [17] کا دن ہو گا۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی وہ ابد الاباد تک اس میں رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے
[17] ﴿تغابن﴾ کی لغوی تشریح اور مفہوم :۔
﴿تغابن﴾ ﴿غبن﴾ معروف لفظ ہے بمعنی چوری چھپے کسی دوسرے کا حق مار لینا، اور ﴿تغابن﴾ بمعنی چوری چھپے ایک دوسرے کے حقوق، خواہ ان کا تعلق مال و دولت سے ہو یا دوسرے حقوق سے مارنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دنیا میں جو ﴿تغابن﴾ ہوتا ہے اور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ یہ حقیقی نہیں بلکہ اس کے نتائج اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مثلاً زید نے بکر کا حق غصب کیا تو یہاں دنیا میں اس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ زید فائدہ میں رہا اور بکر خسارے میں رہا۔ لیکن قیامت کے دن جب زید سے بکر کا غبن کیا ہوا حق زید کو واپس دلایا جائے گا تو بکر فائدے میں رہے گا اور زید خسارے میں رہے گا۔ گویا آخرت میں فائدے اور خسارے کے نتائج دنیا کے نتائج کے برعکس ہوں گے۔ اس لحاظ سے زید ہار گیا اور بکر جیت گیا۔ اس مطلب کی تائید اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا! مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقتاً مفلس وہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سی نیکیاں لے کر آئے گا تو اس سے حق وصول کرنے والے اللہ کے دربار میں اپنے اپنے حق کا مطالبہ کرنے لگیں گے تو اس کی نیکیاں حقداروں کو دے دی جائیں گی حتیٰ کہ اس کے پاس کوئی نیکی نہ رہے گی۔ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الظلم]
اب انفرادیت سے آگے اجتماعیت کی طرف آئیے۔ ایک فریق وہ ہے جس نے مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر ان کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ ہم ہی غالب اور کامیاب ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قابلیتیں، وقت اور مال و دولت اس کام پر لگا رکھے ہیں کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ان ظالموں کے مظالم کی چکی میں پس رہا ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ مغلوب و مقہور ہیں۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جب قیامت کو ان سب لوگوں کے اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ کون خسارے میں رہا اور کون فائدے میں اور کون ہارا اور کون جیتا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔
گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَیَعْمَلْ صَالِحًا اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يعني: اذكُروا يومَ الجمع الذي يجمع الله به الأوَّلين والآخرين، ويقفُهم موقفاً هائلا عظيماً، وينبِّئهم بما عملوا؛ فحينئذٍ يظهر الفرق والتغابن بين الخلائق، ويُرفع أقوامٌ إلى علِّيين في الغرف العاليات والمنازل المرتفعات المشتملة على جميع اللَّذَّات والشهوات، ويُخفض أقوامٌ إلى أسفل سافلين محلِّ الهمِّ والغمِّ والحزن والعذاب الشديد، وذلك نتيجة ما قدَّموه لأنفسهم وأسلفوه أيَّام حياتهم، ولهذا قال: {ذلك يومُ التغابنِ}؛ أي: يظهر فيه التغابن والتفاوت بين الخلائق، ويغبن المؤمنون الفاسقين، ويعرِفُ المجرمون أنَّهم على غير شيء، وأنَّهم هم الخاسرون. فكأنَّه قيل: بأيِّ شيءٍ يحصلُ الفلاحُ والشقاء والنعيم والعذاب؟ فذكر [تعالى] أسباب ذلك بقوله: {ومَن يؤمِن بالله}: إيماناً تامًّا شاملاً لجميع ما أمر الله بالإيمان به، {ويعملْ صالحاً}: من الفرائض والنوافل؛ من أداء حقوق الله وحقوق عباده، {يُدْخِلْه جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فيها ما تشتهيه الأنفسُ، وتلذُّ الأعينُ، وتختارهُ الأرواح، وتحنُّ إليه القلوب، ويكون نهاية كلِّ مرغوب. {خالدين فيها أبداً ذلك الفوزُ العظيمُ}.