تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ: ”غَبَنَ“ (ن) ”فُلَانًا فِي الْبَيْعِ“} بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرلینا۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے، انھوں نے {” ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ “} کے متعلق فرمایا: [هُوَ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَذٰلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَغْبُنُوْنَ أَهْلَ النَّارِ] ” یعنی یوم التغابن قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام اس لیے ہے کہ اس دن جنتی جہنمیوں کو نقصان میں رکھ کر خود فائدہ حاصل کریں گے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس نفع و نقصان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے آگے بیان فرما دی ہے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کو کیا حاصل ہو گا اور کفر و تکذیب والوں کے حصے میں کیا آئے گا۔
➌ {وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا …:} یہ اس دن کی ہار جیت میں سے جیت والوں کے حصے کا بیان ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اب انفرادیت سے آگے اجتماعیت کی طرف آئیے۔ ایک فریق وہ ہے جس نے مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر ان کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ ہم ہی غالب اور کامیاب ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قابلیتیں، وقت اور مال و دولت اس کام پر لگا رکھے ہیں کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ان ظالموں کے مظالم کی چکی میں پس رہا ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ مغلوب و مقہور ہیں۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جب قیامت کو ان سب لوگوں کے اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ کون خسارے میں رہا اور کون فائدے میں اور کون ہارا اور کون جیتا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: اذكُروا يومَ الجمع الذي يجمع الله به الأوَّلين والآخرين، ويقفُهم موقفاً هائلا عظيماً، وينبِّئهم بما عملوا؛ فحينئذٍ يظهر الفرق والتغابن بين الخلائق، ويُرفع أقوامٌ إلى علِّيين في الغرف العاليات والمنازل المرتفعات المشتملة على جميع اللَّذَّات والشهوات، ويُخفض أقوامٌ إلى أسفل سافلين محلِّ الهمِّ والغمِّ والحزن والعذاب الشديد، وذلك نتيجة ما قدَّموه لأنفسهم وأسلفوه أيَّام حياتهم، ولهذا قال: {ذلك يومُ التغابنِ}؛ أي: يظهر فيه التغابن والتفاوت بين الخلائق، ويغبن المؤمنون الفاسقين، ويعرِفُ المجرمون أنَّهم على غير شيء، وأنَّهم هم الخاسرون. فكأنَّه قيل: بأيِّ شيءٍ يحصلُ الفلاحُ والشقاء والنعيم والعذاب؟ فذكر [تعالى] أسباب ذلك بقوله: {ومَن يؤمِن بالله}: إيماناً تامًّا شاملاً لجميع ما أمر الله بالإيمان به، {ويعملْ صالحاً}: من الفرائض والنوافل؛ من أداء حقوق الله وحقوق عباده، {يُدْخِلْه جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فيها ما تشتهيه الأنفسُ، وتلذُّ الأعينُ، وتختارهُ الأرواح، وتحنُّ إليه القلوب، ويكون نهاية كلِّ مرغوب. {خالدين فيها أبداً ذلك الفوزُ العظيمُ}.