تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَ﴾”اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔“ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالْحَقِّ﴾”حق کے ساتھ۔“ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمْفَاَحْسَنَصُوَرَؔكُمْ﴾”اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسَانَفِیْۤاَحْسَنِتَقْوِیْمٍ﴾ (التین:95؍4) ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔“ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَیْهِالْمَصِیْرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا ذكر خلق الإنسان المأمور المنهيِّ؛ ذكر خلق باقي المخلوقات، فقال: {خَلَقَ السمواتِ والأرض}؛ أي: أجرامهما وجميع ما فيهما فأحسنَ خَلْقَهما {بالحقِّ}؛ أي: بالحكمة والغاية المقصودة له تعالى، {وصَوَّرَكم فأحسن صُوَرَكم}؛ كما قال تعالى: {لقد خَلَقْنا الإنسان في أحسن تقويم}: فالإنسان أحسن المخلوقات صورةً، وأبهاها منظراً. {وإليه المصيرُ}؛ أي: المرجع يوم القيامةِ، فيجازيكم على إيمانكم وكفركم، ويسألكم عن النِّعم والنعيم الذي أولاكم؛ هل قمتُم بشكره أم لم تقوموا به ؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔