تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 2

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾
وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے ۔ En
وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے
En
اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذكر أنَّه خلق العباد، وجعل منهم المؤمن والكافر؛ فإيمانهم وكفرُهم كلُّه بقضاء الله وقدره، وهو الذي شاء ذلك منهم؛ بأنْ جعل لهم قدرةً وإرادةً بها يتمكَّنون من كلِّ ما يريدون من الأمر والنهي. {والله بما تعلمون بصيرٌ}.