تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 8

یَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَی الۡمَدِیۡنَۃِ لَیُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡہَا الۡاَذَلَّ ؕ وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾
وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے توجو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوںکے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔ En
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے
En
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ وہ کہتے تھے: البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ہماری اور ان کی (یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔ اور کہنے لگا: ﴿ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلِلّٰهِ الْ٘عِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ٘ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ۠ حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يقولون لئن رَجَعْنا إلى المدينة لَيُخْرِجَنَّ الأعزُّ منها الأذلَّ}: وذلك في غزوة المريسيع، حين صار بين بعض المهاجرين والأنصار بعض كلام كدَّرَ الخواطر؛ ظهر حينئد نفاقُ المنافقين، وتبيَّن ما في قلوبهم ، وقال كبيرهم عبدُ الله بنُ أبيِّ بنُ سلول: ما مَثَلُنا ومَثَلُ هؤلاء ـ يعني: المهاجرين ـ إلاَّ كما قال القائل: سَمِّنْ كلبك يأكلك. وقال: لئنْ رجَعْنا إلى المدينة لَيُخْرِجَنَّ الأعزُّ منها الأذلَّ؛ بزعمه أنَّه هو وإخوانه المنافقين الأعزُّون، وأنَّ رسول الله ومن اتَّبعه هم الأذلُّون، والأمر بعكس ما قال هذا المنافق، فلهذا قال تعالى: {ولله العزَّةُ ولرسوله وللمؤمنين}: فهم الأعزَّاء، والمنافقون وإخوانُهم من الكفار هم الأذلاَّء. {ولكنَّ المنافقين لا يعلمون}: ذلك؛ فلذلك زعموا أنَّهم الأعزَّاء اغتراراً بما هم عليه من الباطل.