تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 7

ہُمُ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰی مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنۡفَضُّوۡا ؕ وَ لِلّٰہِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۷﴾
یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے ۔ En
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے
En
یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کی نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے: ﴿ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔
اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من شدَّة عداوتهم للنبيِّ - صلى الله عليه وسلم - والمسلمين، لما رأوا اجتماع أصحابه وائتلافَهم ومسارعتَهم في مرضاة الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ قالوا بزعمهم الفاسد: {لا تُنفِقوا على مَنْ عندَ رسول حتى يَنفَضُّوا}: فإنَّهم على زعمهم لولا أموالُ المنافقين ونفقاتُهم عليهم؛ لما اجتمعوا في نصرة دين الله! وهذا من أعجب العجب أن يدَّعِيَ هؤلاء المنافقون الذين هم أحرصُ الناس على خذلان الدين وأذيَّة المسلمين مثل هذه الدَّعوى التي لا تَروجُ إلاَّ على مَنْ لا علم له بالحقائق ، ولهذا قال تعالى ردًّا لقولهم: {ولله خزائنُ السمواتِ والأرض}: فيؤتي الرزق مَنْ يشاءُ، ويمنعه من يشاء، وييسِّر الأسباب لمن يشاء، ويعسِّرها على مَنْ يشاء. {ولكنَّ المنافقينَ لا يفقهونَ} فلذلك قالوا تلك المقالة التي مضمونُها أنَّ خزائن الرزقِ في أيديهم وتحت مشيئتهم.