تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المنافقون (63) — آیت 11

وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
اور اللہ کسی جان کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب اس کا وقت آگیا اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ En
اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
En
اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا:﴿ وَلَ٘نْ یُّؤَخِّ٘رَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ جس کا آنا حتمی ہے۔
﴿ وَاللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا السؤال والتَّمني قد فات وقتُه، ولا يمكن تداركه، ولهذا قال: {ولن يؤخِّرَ اللهُ نفساً إذا جاء أجَلُها}: المحتوم لها. {والله خبيرٌ بما تعملون}: من خير وشرٍّ، فيجازيكم على ما علمه منكم من النيِّات والأعمال.