تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا:﴿ وَلَ٘نْیُّؤَخِّ٘رَاللّٰهُنَفْسًااِذَاجَآءَاَجَلُهَا﴾”اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔“ جس کا آنا حتمی ہے۔
﴿ وَاللّٰهُخَبِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا السؤال والتَّمني قد فات وقتُه، ولا يمكن تداركه، ولهذا قال: {ولن يؤخِّرَ اللهُ نفساً إذا جاء أجَلُها}: المحتوم لها. {والله خبيرٌ بما تعملون}: من خير وشرٍّ، فيجازيكم على ما علمه منكم من النيِّات والأعمال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔