تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصف (61) — آیت 2

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔ En
مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے
En
اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَتَاْمُرُوْنَؔ النَّاسَ بِالْـبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَؔ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَؔ (البقرۃ:2؍44) کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰؔىكُمْ عَنْهُ (ھود:11؍88) میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يا أيُّها الذين آمنوا لم تقولونَ ما لا تفعلونَ}؛ أي: لم تقولونَ الخير وتحثُّون عليه، وربما تمدَّحتم به وأنتم لا تفعلونه، وتَنْهَوْنَ عن الشرِّ، وربَّما نزَّهتم أنفسكم عنه وأنتم متلوِّثون متَّصفون به؛ فهل تليقُ بالمؤمنين هذه الحالة الذَّميمة؟! أم من أكبر المقت عند الله أن يقولَ العبدُ ما لا يفعل؟! ولهذا ينبغي للآمر بالخير أن يكونَ أولَ الناس إليه مبادرةً، والناهي عن الشرِّ أن يكون أبعدَ الناس عنه ؛ قال تعالى: {أتأمرونَ الناس بالبِرِّ وتَنسَوْنَ أنفسَكم وأنتُم تتلونَ الكِتابَ أفَلا تَعْقِلونَ}، وقال شعيبٌ عليه السلام [لقومه]: {وما أريدُ أن أخالِفَكُم إلى ما أنهاكم عنه}.