2۔ اے ایمان والو! ایسی [2] بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔
[2] قول و فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے :۔
دوسری اور تیسری آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان دوسروں کو ایسی باتوں کی نصیحت کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہو۔ مثلاً دوسروں کو اور بالخصوص اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرے کہ سچ بولنا بہت اچھی عادت ہے لہٰذا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ لیکن خود ان سے ایسی باتیں کہے جن سے اس کا جھوٹ واضح ہو جائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسی لاف زنی مت کرو یا ایسی شیخیاں مت بگھارو جن پر تم عمل پیرا ہو ہی نہیں سکتے، انسان کے قول اور فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے۔ جس سے انسان لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اور اللہ تو ایسی بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے لیکن اس کو نباہنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا جو بات کرو سوچ سمجھ کر کرو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔