تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 2

اِنۡ یَّثۡقَفُوۡکُمۡ یَکُوۡنُوۡا لَکُمۡ اَعۡدَآءً وَّ یَبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ وَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ ؕ﴿۲﴾
اگر وہ تمھیں پائیں تو تمھارے دشمن ہوں گے اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں تمھاری طرف برائی کے ساتھ بڑھائیں گے اور چاہیں گے کاش! تم کفر کرو۔ En
اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ
En
اگر وه تم پر کہیں قابو پالیں تو وه تمہارے (کھلے) دشمن ہو جائیں اور برائی کے ساتھ تم پر دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں اور (دل سے) چاہنے لگیں کہ تم بھی کفر کرنے لگ جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنْ یَّثْ٘قَفُوْؔكُمْ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءًؔ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّیَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْ٘فُرُوْنَ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّن تعالى شدَّة عداوتهم تهييجاً للمؤمنين على عداوتهم: {إن يَثْقَفوكم}؛ أي: يجدوكم وتسنح لهم الفرصة في أذاكم، {يكونوا لكم أعداءً}: ظاهرين، {ويَبْسُطوا إليكم أيدِيَهم}: بالقتل والضَّرب ونحو ذلك، {وألسنَتَهم بالسوءِ}؛ أي: بالقول الذي يسوء من شَتْمٍ وغيره، {وودُّوا لو تكفُرون}: فإنَّ هذا غاية ما يريدون منكم.