تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 90

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾
یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر، کہہ میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، یہ تو تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔ En
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
En
یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ ﴿ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقْتَدِهْ وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں یعنی اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے۔ اور واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیا و مرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل تھی آپ تمام انبیا و مرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللٰہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین سے افضل ہیں۔
﴿ قُ٘لْ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے اعراض کیا ﴿ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمھیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمھارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْ٘عٰلَمِیْنَ یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لیے وہ جو ان کے لیے مفید ہے، اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے اس لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك}: المذكورون {الذين هدى الله فبهداهُمُ اقْتَدِهْ}؛ أي: امش أيها الرسول، الكريمُ خلفَ هؤلاءِ الأنبياءِ الأخيارِ واتَّبعْ ملتَهم. وقد امتثل - صلى الله عليه وسلم - فاهتدى بهدي الرسل قبله، وجمع كلَّ كمال فيهم، فاجتمعت لديه فضائل وخصائص فاق بها جميع العالمين، وكان سيد المرسلين وإمام المتقين صلوات الله وسلامه عليه وعليهم أجمعين. وبهذا الملحظ استدلَّ بهذه من استدلَّ من الصحابة أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أفضل الرسل كلهم، {قل} للذين أعرضوا عن دعوتك: {لا أسألكم عليه أجراً}؛ أي: لا أطلبُ منكم مغرماً ومالاً جزاء عن إبلاغي إياكم ودعوتي لكم، فيكون من أسباب امتناعكم، إنْ أجري إلاَّ على الله. {إنْ هو إلا ذِكرى للعالمين}: يتذكَّرون به ما ينفعُهم فيفعلونَه وما يضُرُّهم فيذرونَه، ويتذكَّرون به معرفةَ ربِّهم بأسمائه وأوصافه، ويتذكَّرون به الأخلاق الحميدةَ والطُّرق الموصلة إليها، والأخلاق الرذيلة والطرق المفضية إليها؛ فإذا كان ذكرى للعالمين؛ كان أعظم نعمة أنعم الله بها عليهم، فعليهم قبولها، والشكر عليها.