ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 90

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾
یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر، کہہ میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، یہ تو تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔ En
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
En
یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 90) ➊ {فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ:} یعنی توحید اور عقائد میں ان کی راہ پر قائم رہیے، کیونکہ تمام انبیاء ان باتوں میں متفق ہیں، باقی احکام میں سے بھی جو منسوخ نہیں ہوئے ان کی بھی پیروی کیجیے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی دشمنوں کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جن کاموں میں کوئی نیا حکم نہیں آیا ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے انبیاء کے طریق پر رہنے کا حکم تھا۔ مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا سورۂ ص میں سجدہ ہے؟ تو انھوں نے «وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ» سے لے کر «فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ» تک تلاوت کر کے فرمایا: ہاں، وہ (داؤد علیہ السلام) بھی ان لوگوں میں سے تھے جن کی پیروی کا آپ کو اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں داؤد علیہ السلام کے سجدے کا ذکر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان انبیاء کی پیروی کا حکم ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «أولئك الذين هدي الله …» ‏‏‏‏: ۴۶۳۲]
➋ {اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِيْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس دونوں کی طرف بھیجے گئے اور آپ کی رسالت قیامت تک کے لیے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

90۔ 1 اس سے مراد انبیاء مذکورین ہیں۔ ان کی پیروی کا حکم مسئلہ توحید ميں اور ان احکام و شرائع میں ہے جو منسوخ نہیں ہوئے (فتح القدیر) کیونکہ اصول دین تمام شریعتوں میں ایک ہی رہے ہیں گو شرائع اور مناہج میں کچھ کچھ اختلاف رہا جیسا کہ آیت شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا (الشوری) سے واضح ہے 90۔ 2 یعنی تبلیغی دعوت کا، کیونکہ مجھے اس کا صلہ ہی کافی ہے جو آخرت میں عند اللہ ملے گا۔ 90۔ 3 جہان والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ پس یہ قرآن انھیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کرے گا اور ضلالت کی پگڈنڈیوں سے نکال کر ایمان کی صراط مسقیم پر گامزن کردے گا۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے، ورنہ دیدہ کور کو کیا نظر آئے کیا دیکھنے والا معاملہ ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

90۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی تھی۔ آپ انہی کے راستہ پر [91] چلئے اور کہہ دیجئے کہ: میں اس (تبلیغ و رسالت کے کام) پر تم سے اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت [92] ہے
[91] سابقہ شریعتوں کا اتباع کس صورت میں:۔
یعنی تمام انبیاء کا دین یا دستور اساسی ایک ہی رہا ہے۔ جیسے توحید پرستی، شرک سے بے زاری اور اس کے خلاف جہاد، اللہ کی فرمانبرداری اور روز آخرت پر ایمان وغیرہ۔ لہٰذا جو کچھ ان کا دین تھا، آپ کو بھی وہی دین اختیار کرنا چاہیے، اسی ہدایت کی اتباع کیجئے اور شریعت ہر نبی کو الگ الگ اس کے زمانہ کے احوال، ظروف کے مطابق دی گئی ہے۔ اس آیت سے ایک اور اہم بات کا پتا چلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو حکم کسی بھی نبی کی شریعت میں مذکور ہو اور اللہ تعالیٰ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حکم بیان کرتے وقت اس پر نکیر نہ فرمائی ہو۔ وہ حکم امت محمدیہ کے لیے بھی واجب الاتباع ہو گا۔ قرآن کریم میں اس کی مثال اعضاء و جوارح کا قصاص ہے۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح زخموں کا بھی ویسا ہی قصاص ہو گا۔ یہ تورات کا حکم ہے جسے قرآن نے سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 45 میں بیان فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ لہٰذا یہ حکم امت محمدیہ کے لیے بھی قابل اتباع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے مطابق دانت کے مقدمات کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ آپ کے پاس ایک ایسے ہی شادی شدہ یہودی اور یہودن کا مقدمہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ”اے اللہ! سب سے پہلے میں تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جسے ان یہود نے مردہ کر دیا تھا۔“ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب رجم اليهود و اهل الذمة فى الزنا، مزيد تفصيل سورة مائده كي آيت نمبر 44 كے حاشيه 82 ميں ملاحظه فرمائيے]
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے نکیر کے اس حکم کو زندہ کرنے کی تحسین فرمائی۔ تو یہ رجم کا حکم امت محمدیہ کے لیے واجب الاتباع ہوا۔ اور احادیث رسول اللہ میں اس کی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں۔
[92] اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی رسالت بھی تمام اقوام عالم کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے اور یہ قرآن بھی اسی طرح سب لوگوں کے لیے کتاب ہدایت ہے اس کے بعد نہ کوئی نبی یا رسول آنے والا ہے اور نہ ہی اللہ کی طرف سے تا قیامت کتاب نازل ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی یہ مذکورہ بالا لوگ ﴿ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقْتَدِهْ وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس آپ ان کی ہدایت کی پیروی کریں یعنی اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان انبیائے اخیار کی پیروی اور ان کی ملت کی اتباع کیجیے۔ اور واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پہلے انبیا و مرسلین کی پیروی کی اور ان کے ہر کمال کو اپنے اندر جمع کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ایسے فضائل اور خصائص جمع تھے جن کی بنا پر آپ کو تمام جہانوں پر فوقیت حاصل تھی آپ تمام انبیا و مرسلین کے سردار اور متقین کے امام تھے۔ صلوات اللٰہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔ یہ ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا) وہ پہلو جس سے بعض صحابہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین سے افضل ہیں۔
﴿ قُ٘لْ یعنی ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے اعراض کیا ﴿ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا۔ یعنی میں تم سے اپنی تبلیغ اور تمھیں اسلام کی دعوت دینے کے عوض کسی مال اور تاوان کا مطالبہ نہیں کرتا جو تمھارے اسلام نہ لانے کا سبب بنے، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْ٘عٰلَمِیْنَ یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کے لیے وہ جو ان کے لیے مفید ہے، اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے سے اپنے رب اور اس کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اخلاق حمیدہ، ان کے حصول کے مناہج اور اخلاق رذیلہ اور ان میں مبتلا کرنے والے امور کا علم حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے اس لیے یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس نعمت کو قبول کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك}: المذكورون {الذين هدى الله فبهداهُمُ اقْتَدِهْ}؛ أي: امش أيها الرسول، الكريمُ خلفَ هؤلاءِ الأنبياءِ الأخيارِ واتَّبعْ ملتَهم. وقد امتثل - صلى الله عليه وسلم - فاهتدى بهدي الرسل قبله، وجمع كلَّ كمال فيهم، فاجتمعت لديه فضائل وخصائص فاق بها جميع العالمين، وكان سيد المرسلين وإمام المتقين صلوات الله وسلامه عليه وعليهم أجمعين. وبهذا الملحظ استدلَّ بهذه من استدلَّ من الصحابة أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أفضل الرسل كلهم، {قل} للذين أعرضوا عن دعوتك: {لا أسألكم عليه أجراً}؛ أي: لا أطلبُ منكم مغرماً ومالاً جزاء عن إبلاغي إياكم ودعوتي لكم، فيكون من أسباب امتناعكم، إنْ أجري إلاَّ على الله. {إنْ هو إلا ذِكرى للعالمين}: يتذكَّرون به ما ينفعُهم فيفعلونَه وما يضُرُّهم فيذرونَه، ويتذكَّرون به معرفةَ ربِّهم بأسمائه وأوصافه، ويتذكَّرون به الأخلاق الحميدةَ والطُّرق الموصلة إليها، والأخلاق الرذيلة والطرق المفضية إليها؛ فإذا كان ذكرى للعالمين؛ كان أعظم نعمة أنعم الله بها عليهم، فعليهم قبولها، والشكر عليها.