تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 5

فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾
پس بے شک انھوں نے حق کو جھٹلا دیا، جب وہ ان کے پاس آیا، تو عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے ہیں۔ En
جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا
En
انہوں نے اس سچی کتاب کو بھی جھٹلایا جب کہ وه ان کے پاس پہنچی، سو جلدی ہی ان کو خبر مل جائے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ استہزا کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَؔهُمْ انھوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لیے حق کو آسان کر دیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا مگر انھوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویے کے ساتھ کیا جس رویے کے ساتھ انھیں اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
﴿فَسَوْفَ یَ٘اْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَؔ سو اب آئی جاتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا ﴿ هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ (الطور: 52؍14) یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔﴿ وَاَقْ٘سَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَؔۙ۰۰لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ (النحل: 16؍38،39) اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے بھی کہ کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فقد كذَّبوا بالحقِّ لما جاءهم}: والحقُّ حقُّه أن يُتَّبع ويُشكر الله على تيسيره لهم وإتيانهم به، فقابلوه بضدِّ ما يجب مقابلته به، فاستحقوا العقاب الشديد. {فسوف يأتيهم أنباء ما كانوا به يستهزِئون}؛ أي: فسوف يَرَوْن ما استهزؤوا به أنَّه الحقُّ والصدق، ويُبَيِّنُ الله للمكذِّبين كذبهم وافتراءهم، وكانوا يستهزئون بالبعث والجنة والنار؛ فإذا كان يوم القيامة؛ قيل للمكذبين: هذه النارُ التي كنتم بها تكذِّبون، وقال تعالى: {وأقْسَموا باللهِ جَهْدَ أيْمانِهِمْ لا يَبْعَثُ اللهُ مَنْ يَموتُ بَلى وَعْداً عليهِ حقًّا ولكنَّ أكْثَرَ الناس لا يعلمونَ. لِيُبَيِّنَ لهم الذي يختلفونَ فيه ولِيَعْلَمَ الذين كفروا أنَّهم كانوا كاذبين}.