تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 4

وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾
اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔ En
اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
En
اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں نہیں آتی مگر وه اس سے اعراض ہی کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے۔ نیز یہ کہ آیات و معجزات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہو جائے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَمَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ﴿ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انھوں نے پیٹھ پھیر لی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ منه تعالى عن إعراض المشركين وشدَّة تكذيبهم وعداوتهم، وأنهم لا تنفع فيهم الآيات حتى تَحِلَّ بهم المَثُلات، فقال: {وما تأتيهم من آيةٍ من آيات ربِّهم}: الدالَّة على الحقِّ دلالة قاطعة، الداعية لهم إلى اتِّباعه وقبوله، {إلَّا كانوا عنها معرِضين}: لا يُلقون لها بالاً ولا يُصْغونَ لها سمعاً، قد انصرفت قلوبُهم إلى غيرها، وولَّوْها أدبارَهم.