اور کاش! تو دیکھے جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے، وہ فرمائے گا کیا یہ حق نہیں؟ کہیں گے کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم! فرمائے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
En
اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو
اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اللہ فرمائے گا کہ کیا یہ امر واقعی نہیں ہے؟ وه کہیں گے بےشک قسم اپنے رب کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب اپنے کفر کے عوض عذاب چکھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَوْتَرٰۤى ﴾”اگر آپ دیکھیں “ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں ﴿ اِذْوُقِفُوْاعَلٰىرَبِّهِمْ ﴾”جبکہ انھیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا“ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ ﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اَلَ٘یْسَهٰؔذَابِالْحَقِّ ﴾”کیا یہ برحق نہیں۔“ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں؟ ﴿ قَالُوْابَلٰىوَرَبِّنَا ﴾”وہ کہیں گے کیوں نہیں، قسم ہے اپنے رب کی“ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا ﴿ قَالَفَذُوْقُواالْعَذَابَبِمَاكُنْتُمْتَكْ٘فُرُوْنَ ﴾”اب چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولو ترى} الكافرينَ {إذ وُقِفوا على ربِّهم}؛ لرأيت أمراً عظيماً وهولاً جسيماً، {قال} لهم موبخاً ومقرعاً: {أليس هذا} الذي تَرَوْنَ من العذاب {بالحقِّ قالوا بلى وربِّنا}: فأقرُّوا واعترفوا حيث لا ينفعُهم ذلك، {قال فذوقوا العذابَ بما كنتُم تكفُرون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔