تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 29

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور انھوں نے کہا نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری دنیا کی زندگی اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں۔ En
اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے
En
اور یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہماری زندگی ہے اور ہم زنده نہ کئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالُوْۤا اور وہ کہتے ہیں۔ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۠ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا} منكرين للبعثِ: {إن هي إلَّا حياتُنا الدُّنيا}؛ أي: ما حقيقة الحال والأمر وما المقصودُ من إيجادِنا إلاَّ الحياة الدُّنيا وحدها، {وما نحن بمبعوثينَ}.