تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوْۤا ﴾”اور وہ کہتے ہیں۔“ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنْهِیَاِلَّاحَیَاتُنَاالدُّنْیَا ﴾”ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔“ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَانَحْنُبِمَبْعُوْثِیْنَ۠ ﴾”ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا} منكرين للبعثِ: {إن هي إلَّا حياتُنا الدُّنيا}؛ أي: ما حقيقة الحال والأمر وما المقصودُ من إيجادِنا إلاَّ الحياة الدُّنيا وحدها، {وما نحن بمبعوثينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔