اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔
En
کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں
اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوْتَرٰۤىاِذْوُقِفُوْاعَلَىالنَّارِ ﴾”اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر“ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوْایٰلَیْتَنَانُرَدُّوَلَانُكَذِّبَبِاٰیٰتِرَبِّنَاوَنَكُوْنَمِنَالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخبراً عن حال المشركين يوم القيامة وإحضارهم النار: {ولو ترى إذْ وُقِفوا على النار}: ليوبَّخوا ويُقَرَّعوا؛ لرأيت أمراً هائلاً وحالاً مفظعة، ولرأيتهم كيف أقرُّوا على أنفسهم بالكفر والفسوق، وتمنَّوا أنْ لو يُرَدُّوا إلى الدُّنيا، {فقالوا يا لَيْتَنا نُرَدُّ ولا نكذِّبَ بآيات ربِّنا ونكونَ من المؤمنين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔