تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَهُمْ ﴾”اور وہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں، وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انھیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ﴿وَاِنْیُّهْلِكُوْنَاِلَّاۤاَنْفُسَهُمْوَمَایَشْ٘عُرُوْنَ ﴾”وہ اپنے آپ کو ہی ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں “ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وهم}؛ أي: المشركون بالله المكذِّبون لرسوله يجمعون بين الضَّلال والإضلال؛ ينهون الناس عن اتباع الحقِّ، ويحذِّرونهم منه، ويبعدون بأنفسهم عنه، ولن يضرُّوا الله ولا عباده المؤمنين بفعلهم هذا شيئاً. {إن يُهلكون إلا أنفُسَهم وما يشعرونَ}: بذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔