تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 26

وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
اور وہ اس سے روکتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے سوا کسی کو ہلاک نہیں کر رہے اور نہیں سمجھتے۔ En
وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں
En
اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباه کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَهُمْ اور وہ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں، وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انھیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ﴿وَاِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَمَا یَشْ٘عُرُوْنَ وہ اپنے آپ کو ہی ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهم}؛ أي: المشركون بالله المكذِّبون لرسوله يجمعون بين الضَّلال والإضلال؛ ينهون الناس عن اتباع الحقِّ، ويحذِّرونهم منه، ويبعدون بأنفسهم عنه، ولن يضرُّوا الله ولا عباده المؤمنين بفعلهم هذا شيئاً. {إن يُهلكون إلا أنفُسَهم وما يشعرونَ}: بذلك.