وہی ہے جس نے تمھیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدت مقرر کی اور ایک اور مدت اس کے ہاں مقرر ہے، پھر (بھی) تم شک کرتے ہو۔
En
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ هُوَالَّذِیْخَلَقَكُمْمِّنْطِیْنٍ ﴾”وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا“ یعنی تمھارا اور تمھارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے ﴿ ثُمَّقَ٘ضٰۤىاَجَلًا ﴾”پھر ایک مدت مقرر کر دی“ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لیے تمھارے لیے ایک مدت مقرر کر دی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمھارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمھاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ لِیَبْلُوَؔكُمْاَیُّؔكُمْاَحْسَنُعَمَلًا ﴾ (الملک: 67؍2) ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔“﴿ وَاَجَلٌمُّ٘سَمًّىعِنْدَهٗ ﴾”اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک“ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود ﴿اَنْتُمْتَمْتَرُوْنَ ﴾”تم شک کرتے ہو“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں ﴿الظُّلُمَاتِ﴾ کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے ﴿النُّوْرَ﴾ کو واحد استعمال کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنَّهٰؔذَاصِرَاطِیْمُسْتَقِیْمًافَاتَّبِعُوْهُ١ۚوَلَاتَتَّبِعُواالسُّبُلَفَتَفَرَّقَبِكُمْعَنْسَبِیْلِهٖ ﴾ (الانعام: 6؍153) ”اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو الذي خَلَقَكُم من طينٍ}: وذلك بخَلْقِ مادَّتكم وأبيكم آدم عليه السلام. {ثم قضى أجلاً}؛ أي: ضرب لمدَّة إقامتكم في هذه الدار أجلاً تتمَتَّعون به، وتُمْتَحنون، وتُبْتَلَون بما يرسل إليهم به رسله؛ ليبلُوَكُم أيُّكم أحسنُ عملاً، ويعمِّرَكُم، ما يتذكَّر فيه من تذكَّر. {وأجلٌ مسمًّى عنده}: وهي الدار الآخرةُ التي ينتقل العباد إليها من هذه الدار، فيجازيهم بأعمالهم من خير وشر، {ثمَّ}: مع هذا البيان التامِّ وقطع الحجة {أنتم تَمْتَرون}؛ أي: تشكُّون في وعد الله ووعيدِهِ ووقوع الجزاء يوم القيامة.
وذكر الله الظُّلمات بالجمع لكثرة موادِّها وتنوُّع طرقها، ووحَّد النور لكون الصراط الموصلة إلى الله واحدةً لا تعدُّد فيها، وهي الصراط المتضمِّنة للعلم بالحق والعمل به؛ كما قال تعالى: {وأنَّ هذا صراطي مستقيماً فاتَّبِعوه ولا تَتَّبعوا السُّبُلَ فَتَفَرَّق بكم عن سبيلِهِ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔