سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا، پھر (بھی) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں۔
En
ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں
تمام تعریفیں اللہ ہی کے ﻻئق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد و ثنا ہے، چنانچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا۔ اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں، جیسے رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً: جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود ﴿ثُمَّالَّذِیْنَكَفَرُوْابِرَبِّهِمْیَعْدِلُوْنَ ﴾”پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کیے دیتے ہیں “ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ انھیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبارٌ عن حمدِهِ والثناء عليه بصفات الكمال ونعوت العظمة والجلال عموماً وعلى هذه المذكورات خصوصاً؛ فحمد نفسه على خلقه السماوات والأرض الدالَّةِ على كمال قدرته وسعة علمه ورحمته وعموم حكمته وانفراده بالخلق والتدبير، وعلى جَعْلِهِ الظلماتِ والنور، وذلك شاملٌ للحسيِّ من ذلك؛ كالليل والنهار والشمس والقمر، والمعنوي؛ كظلمات الجهل والشَّكِّ والشِّرك والمعصية والغفلة ونور العلم والإيمان واليقين والطاعة، وهذا كلُّه يدلُّ دلالة قاطعة أنه تعالى هو المستحقُّ للعبادة وإخلاص الدين له، ومع هذا الدليل ووضوح البرهان: {ثم الذين كَفَروا بربِّهم يعدِلون}؛ [أي: يعدلون] به سواه؛ يسوُّونهم به في العبادة والتعظيم، مع أنَّهم لم يساووا الله في شيء من الكمال، وهم فقراء عاجزون ناقصون من كل وجه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔