تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 19

قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾
کہہ کون سی چیز گواہی میں سب سے بڑی ہے؟ کہہ اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ میں تمھیں اس کے ساتھ ڈرائوں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے، کیا بے شک تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ بے شک اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں؟ کہہ دے میں (یہ) گواہی نہیں دیتا، کہہ دے وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ En
ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
En
آپ کہئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواه ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔ آپ فرما دیجئے کہ بس وه تو ایک ہی معبود ہے اور بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ کہہ دیجیے۔ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کر دیا اور سیدھی راہوں کو واضح کر دیا ہے اس لیے ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کون سی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ قُ٘لِ اللّٰهُ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَبَیْنَؔكُمْ وہ گواہ ہے میرے اور تمھارے درمیان پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ۰۰لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ۰۰ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ: 69؍44۔46) اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ وہ اللہ کا رسول نہ ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کر دی ہیں۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے؟
﴿ وَاُوْحِیَ اِلَیَّ هٰؔذَا الْ٘قُ٘رْاٰنُ لِاُنْذِرَؔكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَ٘غَ اور اتارا گیا میری طرف قرآن تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے یعنی تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے تاکہ میں تمھیں دردناک عذاب سے ڈراؤں۔ (اِنْذَار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ۔ جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انذار کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین یہ قرآن تمھیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} لهم لمَّا بيَّنَّا لهم الهدى وأوضحنا لهم المسالك: {أيُّ شيء أكبرُ شهادةً}: على هذا الأصل العظيم، {قل اللهُ} أكبرُ شهادةً؛ فهو {شهيدٌ بيني وبينَكم}؛ فلا أعظمَ منه شهادةً ولا أكبرَ، وهو يشهدُ لي بإقراره وفعلِهِ، فَيُقِرُّني على ما قلتُ لكم؛ كما قال تعالى: {ولو تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الأقاويل لأخَذْنا منه باليمين ثم لَقَطَعْنا منه الوتينَ}؛ فالله حكيمٌ قديرٌ، فلا يليق بحكمتِهِ وقدرتِهِ أن يقرَّ كاذباً عليه، زاعماً أنَّ الله أرسلَه ولم يرسِلْه، وأن الله أمره بدعوة الخلق ولم يأمره، وأن الله أباح له دماء من خالفَه وأموالهم ونساءهم وهو مع ذلك يصدِّقه بإقرارِهِ وبفعلِهِ، فيؤيِّده على ما قال بالمعجزاتِ الباهرةِ والآياتِ الظاهرة، وينصرُهُ ويخذِلُ مَن خالفه وعاداه؛ فأيُّ شهادةٍ أكبرُ من هذه الشهادة. وقوله: {وأُوْحيَ إليَّ هذا القرآن لأنذِرَكُم به ومَن بَلَغَ}؛ أي: وأوحى الله إليَّ هذا القرآن الكريم لمنفعتِكم ومصلحتِكم؛ لأنْذِرَكُم به من العقاب الأليم، والنّذارة إنما تكون بذكر ما ينذِرُهم به من الترغيب والترهيب وببيان الأعمال والأقوال الظاهرة والباطنة التي مَن قام بها فقد قَبِلَ النذارة؛ فهذا القرآن فيه النذارةُ لكم أيُّها المخاطَبون وكل مَن بَلَغَهُ القرآن إلى يوم القيامة؛ فإن فيه بيان كلِّ ما يُحتاج إليه من المطالب الإلهية.

لما بيَّن تعالى شهادَته التي هي أكبر الشهادات على توحيدِهِ؛ قال: قلْ لهؤلاء المعارضين لخبر الله والمكذِّبين لرسله: {أئنَّكم لَتشهدونَ أنَّ مع الله آلهةً أخرى قل لا أشهدُ}؛ أي: إن شهدوا؛ فلا تشهدْ معهم، فوازنْ بين شهادةِ أصدق القائلين وربِّ العالمين، وشهادة أزكى الخلق المؤيَّدة بالبراهين القاطعة والحجج الساطعة على توحيد الله وحدَه لا شريك له، وشهادةِ أهل الشِّرك الذين مَرَجَتْ عقولُهم وأديانُهم وفَسَدَتْ آراؤهم وأخلاقهم وأضحكوا على أنفسهم العقلاءَ، بل خالفتْ شهادتُهم فِطَرَهم وتناقضتْ أقوالُهم على إثبات أنَّ مع الله آلهةً أخرى مع أنه لا يقومُ على ما خالفوه أدنى شُبهة فضلاً عن الحُجج، واختر لنفسك أيَّ الشهادتين إن كنت تعقلُ، ونحن نختارُ لأنفسنا ما اختارَه الله لنبيِّه الذي أمرنا الله بالاقتداء به فقال: {قلْ إنَّما هو إله واحدٌ}؛ أي: منفرد لا يستحقُّ العبوديَّة والإلهية سواه كما أنه المنفرد بالخلق والتدبير. {وإنني بريءٌ مما تشرِكون} به من الأوثان والأنداد وكل ما أُشْرِكَ به مع الله. فهذا حقيقة التوحيد: إثبات الإلهية لله، ونفيها عما عداه.